کلامِ طاہر — Page 13
خُدام احمدیت ہیں بادہ مست بادہ آشام احمدیت چلتا ہے دور مینا و جام احمدیت تشنہ لبوں کی خاطر ہر سمت گھومتے ہیں تھامے ہوئے سبوئے گلفام احمدیت خدام احمدیت ، خدام احمدیت جب دہریت کے دم سے مسموم تھیں فضائیں پھوٹی تھیں جا بجا جب الحاد کی وبائیں تب آیا اک مُنادی۔اور ہر طرف صدادی آؤ کہ ان کی زد سے اسلام کو بچائیں زور دعا دکھائیں ، خُدام احمدیت پھر باغ مصطفے کا روحیان آیا دوالمین کو سینچا پھر آنسوؤں سے احمد نے اس چمن کو آہوں کا تھا بلاوا پھولوں کی انجمن کو اور کھینچ لائے نالے مُرغان خوش سخن کو لوٹ آئے پھر وطن کو ، خذام احمدیت 13