کلامِ طاہر — Page 142
عشق نارسا کبھی اپنا بھی اک شناسا تھا کوئی میرا بھی آسرا سا تھا کبھی میں بھی کسی کا تھا مطلوب یا مجھے بس یونہی لگا سا تھا حُسن صنعت کا معجزہ سا تھا 09 نرگسی سراپا جمال چشم نیم باز اُس کی چمن دل کھلا کھلا سا تھا خم لب۔برگ گل کی انگڑائی ذہن غنچہ۔نیم وا سا تھا حُسن کی چاندنی سے تابندہ پھول چہرہ کھلا کھلا سا تھا خوش تکلم سا خوش ادا سا تھا بے تکلف سا بے ریا سا تھا پہلی بار جیسے صدیوں سے آشنا سا تھا یوں لگا جب ملا وہ بھر دیا اُس نے وہ جو برسوں سے میرے سینے میں اک خلا سا تھا اک گرشمه فسوں کا پُر اسرار حیرتوں کا مجسمہ سا تھا 142