کلامِ طاہر — Page 143
خامشی میں سرودِ بے آواز گفتگو میں غزل سرا سا تھا دھوپ میں سائے دار اُس کا پیار اور اندھیروں میں اک دیا سا تھا آشنا ہو کے اجنبی تھا وہ شخص ساتھ رہ کر جُدا جُدا سا تھا دل میں گھر کر گیا وہ دل کا چور دل نشیں کتنا دلربا سا تھا بن سکا نہ مرا کبھی لیکن وہ ہمیشہ میرا میرا سا تھا اُس کے دائم فراق میں شب و روز وصل کا سرمدی مزا سا تھا جب بھی وہ آیا ساتھ نغمہ سرا آرزوؤں کا طائفہ سا تھا ب گیا حسرتوں کا اُس کے ساتھ ایک غمناک ایک غمناک جمگھٹا سا تھا مجھے کنگال کر گیا وہ شخص میرا تو بس وہی اثاثہ تھا میں نہیں جانتا وہ تھا کیا چیز تھی حقیقت کہ واہمہ سا تھا تھا وہ تعبیر میرے خوابوں کی یا ہیولی سا خواب کا سا تھا پیار میں جس کے عُمر بیت گئی گئی کیا فقط ایک دم دلاسہ تھا؟ ہوش جب گھلا۔دیکھا ہر طرف پھر وہی خلا سا تھا دیده وہی میں تھا وہی طلب دل کی وہی اک عشق نارسا سا تھا پیاس بجھ نہ سکی کسی کے سے جانے دل کس بلا کا پیاسا تھا 143