کلامِ طاہر — Page 141
بہیں اشک کیوں تمہارے انہیں روک لو خدارا ہیں اشک کیوں تمہارے انہیں روک لو خدا را مجھے دُکھ قبول سارے یہ ستم نہیں گوارا لوخدا ہو کسی کے تم سراپا مگر آہ کیا کروں میں میری روح بھی تمہاری میرا جسم بھی تمہارا میں غم والم کی موجوں سے اُلجھ رہا ہوں تنہا مجھے آکے دو سہارا مجھے تھام لو خدارا میری دل شکستگی پر مجھے غرق غم سمجھ کر وہ جو ایک آرزو تھی وہی کر گئی کنارا مجھے اذنِ مرگ دے کر وہ افق پہ چاند ڈوبا دو میرا نصیب لے کر کوئی بجھ گیا ستارا لوڈھلک گیا وہ آنسو کہ جھلک رہا تھا جس میں تری شمع رُخ کا پر تو تیر ا عکس پیارا پیارا ہے مجھے تلاش اُس کی جو کبھی کا کھو چکا ہے مجھے جستجو کا کر کے کہیں دُور سے اشارا مجھے چھوڑ کر گئے ہو میرا صبر آزمانے تو سنو کہ اب نہیں ہے مجھے ضبط غم کا یارا 141