کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 75

30 ہائے وہ دل کہ جسے طرزہ وفا یاد نہیں وائے وہ رُوح جسے قول بلی یاد نہیں بے حسابی نے گناہوں کی مجھے پاک کیا میں سراپا ہوں خطا مجھ کو خطا یاد نہیں جیسے دیکھا ہے اسے اس کا ہی رہتا ہے خیال اور کچھ بھی مجھے اب اس کے سوا یاد نہیں درد دل سوز جگر اشک ماں تھے مرے دوست یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار مجھ کو تو یاد ہیں سب آپ کو کیا یاد نہیں بے وفائی کا لگاتے ہیں وہ کس پر انتقام میں تو وہ ہوں کہ مجھے لفظ وفا یاد نہیں میں وہ ہنجود ہو کہ تھے جس نے اڑائے میرے ہوش مجھ کو خود وہ نگر ہوش ربا یاد نہیں کوچہ یار سے ہے مجھ کو نکلنا دوبھر کیا تجھے وعدہ ترا کفرشِ پا یاد نہیں ہائے بد بختی قسمت کہ لگا ہے مجھ کو وہ مرض جس کی مسیحا کو دوا یاد نہیں وہ جو رہتا ہے ہر اک وقت مری آنکھوں میں ہائے کم سختی مجھے اس کا پتا یاد نہیں ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنھیں ملتا ہے پیار مجھولے ہیں روزِ جزا اور جزا یاد نہیں 15 75 اخبار بدر جلد 8-20 مئی 1909ء