کلام محمود مع فرہنگ — Page 74
موسی سے تو نے طور پر جو کچھ کیا سلوک مجھ سے بھی اب وہی سے پروردگار ہو پر معشوق گر نہیں ہوں تو عاشق ہی جان او ان میں نہیں تو اُن میں ہمارا شمار ہو لو چیونٹی پر بوجھ اونٹ کا ہے کون لاوتا اس جال ہے اور یہ ستم روزگار ہو بتلاؤ کس جگہ پر اُسے جاکے ڈھونڈیں ہم جس کی تمام ارض و سما میں پکار ہو قربان کر کے جان دُوئی کا مٹاؤں نام وہ خواب میں ہی آگے جو مجھ سے دوچار ہو شاہ و گدا کی آنکھ میں سرمہ کا کام دے دہ جان جو کہ راہ خدا میں غبار ہو اخبار بدر جلد 8 13 مئی 1909ء 74