کلام محمود مع فرہنگ — Page 76
31 وه نکات معرفت بتلائے کون جاهم وضل دلربا پلوائے کون ڈھونڈتی ہے جلوۂ جاناں کو آنکھ چاند سا چہرہ نہیں دکھلائے کون کون دے دل کو تسلی ہر گھڑی اب اسے وقتوں میں آڑے آئے کون کون دکھلائے ہمیں را و هدی حضرت باری سے اب ملوائے کون سرد مہری سے جہاں کی دل ہے سرد گرمی تاثیر سے گرمائے کون کون دنیا سے کرے ظلمت کو دُور راہ پر بھولے ہوؤں کو لائے کون یاس و نو میدی نے گھیرا ہے مجھے اس کے پنجے سے مجھے چھڑوائے کون کون میرے واسطے زاری کرے درگہ رقی میں میرا جائے کون دہ گلِ رعنا ہی جب مُرجھا گیا پھر بہارِ جانفزا دکھلانے کون کل نہیں پڑتی اسے اُس کے سوا اس دل غمگیں کو اب سمجھائے کون کس کی تقریروں سے اب دل شاد ہو اپنی تحریروں سے اب بھڑکائے کون کس کے کہنے پر ملے دل کو غذا ہم کو آب زندگی پلوائے کون گرمی اُلفت سے ہے یہ زخم دل مرہم کافور سے کل پائے کون ائے مسیحا تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں مبتلا کہ ان کو لائے کون 76