کلام محمود مع فرہنگ — Page 43
دل و جگر کے پر نچھے اُٹے ہوئے ہیں یاں اگرچہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہیں جگا رہے ہیں مستیا کبھی سے دنیا کو مگر غضب ہے کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں مقابلہ میں مسیح زماں کے جو آئے وہ لوگ ہیں جنہیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں کلام پاک بھی موجود ہے اسے پڑھ لے ہمارا تجھ کو جو اسے قوم اعتبار نہیں کبھی تو دل پر بھی جاکہ اثر کرے گی بات سُنائے جائیں گے ہم ہم کہو ہزار نہیں" کروڑ جاں ہو تو کر دوں فدا محمد پر کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار ہیں تم 43 * 1907 اخبار بد ر جلد 6 - 17 7 اکتوبر