کلام محمود مع فرہنگ — Page 42
16 نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہمارے دین کا قصوں پر ہی کھار نہیں دہ دل نہیں جو جدائی میں بے قرار نہیں نہیں وہ آنکھ جوفرقت میں اشکبار نہیں دہ ہم کہ فکر میں ہیں کے نہیں قرار نہیں وہ تم کہ دین محمد سے کچھ بھی پیار نہیں وہ لوگ درگہ عالی میں جن کو بار نہیں انھیں قریب و دغا مکر سے بھی عار نہیں ہے خوف مجھ کو بہت اس کی طبع نازک سے نہیں ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں تڑپ رہی ہے مری روح جسم خاکی میں تیرے سوا مجھے اک دم بھی اب قرار نہیں نہ طعنہ زن ہو مری بے خودی یہ اسے ناصح میں کیا کہوں کہ مراس میں اختیار نہیں مثال آئینہ ہے دل کہ یار کا گھر ہے مجھے کسی سے بھی اس دہریں غبار نہیں جو دل میں آئے سو کہ لوک اس میں بھی بے لطف خدا کے علم میں گرہم ذلیل و خوار نہیں ہواوہ پاک جو قدوس کا ہوا شیدا پلید ہے جسے حاصل یہ افتخار نہیں وہ ہم کہ عشق میں پاتے ہیں نطف یکتائی ہمارا دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں چڑھے ہیں سینکڑوں ہی سولیوں پہ ہم منصور ہمارے عشق کا اک دار پر مدار نہیں ہیں یونہی کہو نہ ہمیں لوگو ! کافر و مرند ہمارے دل کی خبر تم پہ آشکار نہیں بہ امام وقت کا لوگو کرو نہ تم انکار جو جھوٹے ہوتے ہیں وہ پاتے اقتدار نہیں 42