کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 44

17 ظہور مہدی آخر کہاں ہے سنبھل جاؤ کہ وقت امتحاں ہے محمد میرے تن میں مثلِ جاں ہے یہ ہے مشہور جاں ہے تو جہاں ہے گیا اسلام سے وقت خزاں ہے ہوئی پیدا بہار جاوداں ہے اگر پوچھے کوئی علی کہاں ہے تو کہہ دو اس کا منگنی قامیاں ہے ہراک دشمن بھی اب رخنہ انساں ہے میرے احمد کی وہ شیریں زباں ہے مقدر اپنے حق میں عز وشاں ہے جو ذلت ہے نصیب دُشمناں ہے مسیحائے زماں کا یاں مشکل ہے زمین قادیان دار الا ماں ہے فدا ستجھ پر مسیحا میری جاں ہے کہ تو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے مسیحا سے کوئی کہہ دو یہ جا کر مریض عشق تیرا نیم جاں ہے نہ پھولو دوستو دُنیائے دُوں پر کہ اس کی دوستی میں بھی زیاں ہے دو زنگی سے ہمیں ہے سخت نفرت جو دل میں ہے کہیں سے بھی عیاں ہے تیرے اس حال بد کو دیکھ کر قوم جگر ٹکڑے ہے اور دل خون نیشاں ہے جسے کہتی ہے دنیا سنگ پارش میا کا وہ سنگ آستاں ہے دیا ہے رہنا بڑھ کر خنہ سے خُدا بھی ہم پر کیسا مہرباں ہے 44