کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 34

13 یوں الگ گوشتہ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو نہیں معلوم کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو کل تک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو آج ہی سے جو لگا ہے غم فردا ہم کو ہے خدا کی ہی عنائیت پہ بھروسا ہم کو نہ عبادت کا نہ ہے نھد کا دعویٰ ہم کو دردِ الفت میں مزہ آتا ہے ایسا ہم کو کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو مجھ پہ رحمت ہو خُدا کی کہ مسیحا تو نے رشتہ اگفت وحدت ہیں ہے باندھا ہم کو اپنا چہرہ کہیں دکھلائے وہ رب العزت مدتوں سے ہے یہی دل میں تمنا ہم کو گالیاں دشمن دیں تم کو جودیتے ہیں تو دیں کام میں منبر تخت سے ہے زیبا ہم کو کچھ نہیں فکر ، لگائی ہے خدا سے جب کو کو سمجھتا ہے بڑا اپنا پرایا ہم کو ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو تو مانگو مجھ سے ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا اینیما ہم کو زخم دل زخم جگر ہنستے ہیں کھل کھل کرکیوں حالت قوم پر آتا ہے جو رونا ہم کو کہیں موسٹی کی طرح حشری ہوش نہیوں لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھڑکا ہم کو ایک قسم کے لیے بھی یاد سے کیوں تو اترے اور محبوب کہاں تجھ سا ملے گا ہم کو تجھ پرہم کیوں نہ میں اسے سے پہلے کہ ہے تو دولت و آبرو و جان سے پیارا ہم کو 34 ==