کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 33

12 سے مولوید ! کچھ تو کر خوف خدا کا کیا تم نے مناہک بھی نہیں نام حیا کا کیا تم کو نہیں خوف رہا روز جزا کا یوں سامنا کرتے ہو جو محبوب خدا کا ہر جنگ میں کفار کو ہے پیٹھ دکھائی تم لوگوں نے ہی نام ڈبویا ہے وفا کا نے ٹھہراتے ہیں کا فر اسے جو ہائی دیں ہے یہ خوب نمونہ ہے یہاں کے علما کا کافر بیٹھا ہے فلک پر جو اُسے اب تو بُلاؤ چپ میٹھے ہو کیوں تم ہے یہی وقت دعا کا پرکشتر تلک بھی جو رہو اشک رفتاں تم ہرگز نہ پتا پاؤ گے کچھ آو رسا کا دہ شاہ جہاں جس کے لیے یتیم کرکہ ہو وہ قادیاں میں بیٹھا ہے مجوب خُدا کا وشی کو بھی دم بھر میں مہذب ہے بناتی دیکھو تو اثر آ کے ذرا اس کی دُعا کا دہ قوت انجاز ہے اس شخص نے پائی دم بھر میں اُسے مار گرایا جسے تا کا محمود نہ کیوں اس کے مخالف ہوں پریشاں نائب ہے نبی کا وہ فرستادہ خدا کا 33 33 اخبارہ بدر جلد 6 - 14 مارچ 1907ء