کلام محمود مع فرہنگ — Page 35
آدمی کیا ہے تواضع کی نہ عادت ہو جسے سنت لگتا ہے برا کبر کا میت لاہم کو دشمن دین درندوں سے ہیں بڑھے کہ خونخوار چھوڑ یو مت میرے ولی کبھی تنہا ہم کو دیکھ کر حالت دیں خون جگہ کھاتے ہیں مر ہی جائیں جو نہ ہو تیرا سہارا ہم کو دل میں آ آ کے تری یاد نے اسے ب ودود بارہا پہروں تلک خون رلایا ہم کو چونکہ توحید پر ہے زور دیا ہم نے آج اپنے بیگانے نے چھوڑا ہے اکیلا ہم کو حق کو کڑوا ہی بتاتے چلے آئے ہیں لوگ یہ نئی بات ہے لگتا ہے وہ میٹھا ہم کو جوش الفت میں یہ لکھتی ہے غزل اسے محمود کچھ ستائش کی تمنا نہیں ملا ہم کو اخبار بدر جلد 6 - 23 مئی 1907 ء 35