کلام محمود مع فرہنگ — Page 32
تو ایسے شرک پر ہوں فدا مال و آبرو اور ایسا کفر روگ بنے میری جان کا اے قوم کچھ تو عقل و خرد ے بھی کام لے لیتی ہے جس سے مردہ ہے کیسی شان کا سے گو لاکھ تو مقابلہ اس کا کرے مگر بیکا نہ ہال ہو گا کوئی اس جوان کا اے دوستو جو حق کے لیے رنج سہتے ہو یہ رنج و درد وغم ہے فقط درمیان کا کچھ پاس نا امیدی کو دل میں جگہ نہ دو اب جلد ہو چکے گا یہ موسم خران کا اب اس کے پورا ہوتے ہی آجائے گی بہار وعدہ دیا ہے حق نے تمھیں جس نشان کا چاہا اگر خدا نے تو دیکھو گے جلد ہی چاروں طرف ہے شور بپا الامان کا کافر بھی کہہ اٹھیں گے کہ سچا ہے وہ بزرگ دعوی کیا ہے میں نے سینح الزمان کا محمود کیا بعید ہے دل پر جو قوم کے نالہ اشتہ کرے یہ کسی نوحہ خوان کا اخبار بد ر جلد 6 - 14 مارچ 1907 ء 32