کلام محمود مع فرہنگ — Page 367
208 صبح اپنی دانہ ہیں ہے شام اپنی ملک گیر ہاں بڑھائے جاقدم مستی نہ کر اسے ہم صفیر اپنی تدبیر و تفکر سے نہ ہر گز کام سے راہ نما ہے تیرا کابل راو اومیگم بگیر آسماں کے راستوں سے ایک تو ہے باخبر در نہ بھٹکے پھر رہے ہیں آج سب کرناؤ پیر ذرہ ذرہ ہے جہاں کا تابع فرمان حق تم ترقی چاہتے ہو تو بنو اس کے اسیر مجلة الجامعه ریوه بابت ماہ اکتوبر نومبر دسمبر 1965ء 209 وہ علم دے جو کتابوں سے بے نیاز کرے وہ منقل دے کہ دو عالم میں سرفراز کرے دہ بھر دے جوش جنوں میرے سرمیں اے مولی جو آگے بڑھ کے در وصل پھر سے باز کرے مجھے تو اس سے عرض ہے کہ راضی ہو دلبر یہ کام قیس کرے یا کوئی ایا زکرے نہ آئیں اس کے بلانے پر وہ ہے ناممکن جو شخص عشق کی راہوں میں دل گدا زکرے خدا کرے اُسے دُنیا و آخرت میں تباہ جو دشمنان محمد سے ساز باز کرے تیری تھیلی پہمیں اپنے جان و دل دھر دُوں گھر اپنا ہاتھ میری سمت تو دراز کرے خدا کرے میری سب عمر یوں گزر جائے میں اس کے ناز اٹھاؤں وہ مجھ پہ ناز کرے رساله مصباح ریده بابت ماہ تو میرا و سمبر 1965ء 362