کلام محمود مع فرہنگ — Page 366
206 اے محمد ! اے جیب کردگار! میں تیرا عاشق ، ترا دل دادہ ہوں گو ہیں قالب دو مگر ہے جان ایک کیوں نہ ہو ایسا کہ خادم زادہ ہوں اے میرے پیارے اسہارا دو مجھے بے گیس و بے نہیں ہوں خاک افادہ ہوں جنت فردوس سے آیا ہوں میں تشنہ کب آئیں کہ جام بادہ ہوں میری الفت بڑھ کے ہر الفت سے ہے تیری رہ میں مرنے پر آمادہ ہوں اخبار الفضل جلد 12- 16 جولائی 1958 ء لاہور پاکستان 207 میرے تیرے پیار کا ہو رازداں کوئی نہ اور ردک مجھ میں اور تجھ ہیں پھر نہ کچھ باقی ہے ایک میں ہوں پینے والا ایک تو ساقی رہے کاش تو پہلومیں میرے خود ہی آکر بیٹھ جائے عشق سے منور ہو کر وصل کا سائکر پلائے بیٹھ ایک لے گئی نیم جاں کو آزمانا چھوڑ دے نار فرقت سے میرے دل کو جلانا چھوڑ دے نیم اخبار الفضل جلد -16 25 دسمبر 1962ء 1ء ربوہ پاکستان 361