کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 368

210 گناہوں سے بھری دنیا میں پیدا کر دیا مجھ کو میرے خالق مرے مالک یہ کیسا گھر دیا مجھ کو تقدیس کی تڑپ دل میں تو آنکھوں میں حیا رکھی مگر ان خواہشوں کے ساتھ دامن کردیا مجھ کو انہیں اضداد میں گر زندگی میری گزرنی تھی نہ کیوں اک عقل و دانائی سے خالی کر دیا مجھ کو مثال تنگ بحر سعی پیہم میں پڑا رہتا نہ کچھ پرواہ ہوتی پاس رہتا یا جُدا رہتا ٹھکنا ہی تھا قسمت ہیں تو یہوشی بھی دی ہوتی نہ احساس وفا رہتا نہ پاس آشنا رہتا مگر یہ کیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر تو نے لگا دی آگ اور وقف تمتن کردیا مجھ کو 211 خم ہو رہی ہے میری کمر جنم چور ہے منزل خُدا ہی جانے ابھی کتنی دور ہے میرا تو کچھ نہیں ہے اُسی کا ظہور ہے قانون ہوں کہیں اور خدا اس کا نور ہے کھڑکی جمالِ یار کی ہیں " عجز و انکساز سب سے بڑا حجاب سیر و غرور ہے ہمت نہ ہار اس کے گرم پر نگاہ رکھ مایوسیوں کو چھوڑ وُہ رب غَفُورُ ہے اخبار الفضل ربوہ جلد نمبر 9 - 19 دسمبر 1965ء 363