کلام محمود مع فرہنگ — Page 350
190 یہ نظم بہت پرانی ہے۔غالبا ء کے لگ بھنگ کی کھو گئی تھی۔صرف حضور کو مطلع یاد رہ گیا تھا اور حضور نے ۱۹۴۰ء میں دوبارہ اسی مطلع پر نظم کہی تھی۔جو 9 نومبر شائد کے الفضل میں شائع ہوئی۔اب کا غذات دیکھتے ہوئے پہلی نظم حضور کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی مل گئی ہے۔جو ذیل میں شائع کی جارہی ہے۔(مریم صدیقہ) ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذراسی تو صدا کرتا ہے میں نے پوچھا جو ہو کیوں چُپ تو تنک کر بولے ہم بھرے بیٹھے ہیں جانے بھی دے کیا کرتا ہے دوستی اور وفاداری ہے سب عیش کے وقت آڑے وقتوں میں بھلا کون وفا کرتا ہے چلتے کاموں میں مدد دینے کو سب ماہنہ ہیں جب بگڑ جائیں فقط ایک خُدا کرتا ہے کیا بتاؤں تجھے کیا باعث خاموشی ہے میرے سینہ میں یونہی درد ہوا کرتا ہے یں تو بیداری میں رکھتا ہوں سنبھالے دل کو جب میں سو جاؤں تو یہ آہ وبکا کرتا ہے تم نے بھی آگ بجھائی نہ کبھی آ کے مری میری آنکھوں سے مرا دل یہ گلہ کرتا ہے درد تو اور ہی کرتا ہے تقاضا دل سے کر وہ اظہارِ محبت سے دیا کرتا ہے دہ ہجر میں زیست مجھے موت نظر آتی ہے کوئی ایسا بھی ہے عاشق جو جیا کرتا ہے بیٹھ جاتا ہوں وہیں تھام کے اپنے سر کو جب کبھی دل میں مرے درد اُٹھا کرتا ہے اخبار الفضل جلد 55/20 26 مارچ 1966 ء ربوہ۔پاکستان 346