کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 351

191 قبل از ہجرت قادیاں میں آمد کا تیری پیارے ہو انتظار کب تک تم سے گا تیرے منہ کو یہ دل نگار کب تک کتا ہے گا وعدے اے گل مزار کب تک پچھتا رہے گا دل میں حضرت کا خار کب تک کھولے گا مجھ پر کب تک یہ راز خلق و خالق دیکھوں گا تیری جانب آئین دار کب تک ہر چیز اس جہاں کی ڈھلتا ہوا ہے سایہ روز شباب کب تک مغلف بہار کب تک ان وادیوں کی روان کب تک رہے گی قائم یہ ابر و باد و باراں پیسبزہ زار کب تک یہ خدو خال کب تک یہ چائے ھال کب تک اس حسین عارضی میں آخر نکھا ر کب تک بیٹھیں گے ابن آدم کب گنج عافیت میں شور و شعب یہ کب تک پیر خشار کب تک بعد ہجرت سندھ کے سفر میں تری تدبیر جب تقریر سے لڑتی ہے اسے ناواں تو اک نقصان کے بدلے ترسے ہوتے ہیں کو نقصاں وہ خود دیتے ہیں جب مجھ کو بھلا انکار ممکن ہے میں کیوں فاقے رہوں جب شاہ کی گھڑی ہو مہماں بٹھا کر مائیدہ پر لاکھ وہ خاطر کریں میری گا پھر بھی گدا ہے اور سُلطاں پھر بھی ہے سُلطاں جب آئے دل میں آؤ اور جو چاہو کہو اس سے یہ وہ وہ ہے کہ جس کا کوئی حاجت ہے نہ ہے درباں در اخبار الفضل مجلد 55/20 26 مارچ 1966 ء ربوه - پاکستان 347