کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 322

176 دل کعبہ کو چلا میرا بت خانہ چھوڑ کر زمزم کی ہے تلاش اُسے میخانہ چھوڑ کر کیوں چل دیا ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر جاتا ہے کوئی یوں کبھی کا نشانہ چھوڑ کر منجدھار میں ہے کشتی ڈیوٹی خرد نے آہ کیا بابا ئیں نے حضکت رندانہ چھوڑ کر پایا اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیا نہ چھوڑ کر سچ ہے کہ فرق دوزخ و جنت میں بے حنیف پائی نجات دام سے اک دانہ چھوڑ کر ہے لذت سماع بھی لطف نگاہ بھی کیوں جا رہے ہو صحبت جانانہ چھوڑ کر ملک و ملاز سونپ دیے دشمنوں کو سب بیٹھے ہو گھر میں خضکت مردانہ چھوڑ کر ہو مردانہ ہے گنج عرش ہاتھ میں قرآن طاق پر مینا کے ہو رہے ہیں دو میخا نہ چھوڑ کر دل دے رہا ہوں آپ کو لیتے تو جائیے کیوں جارہے ہیں آپ یہ نذرانہ چھوڑ کر 320 اخبار الفضل مجلد 8 لاہور پاکستان 26 ستمبر 1954 ء