کلام محمود مع فرہنگ — Page 323
177 ہے مدت سے شیطان کے ہاتھ آئی حکومت جہاں کی خدا کی خدائی ہر اک چیز اُلٹی ننکہ آرہی ہے بھلائی برائی ، بڑائی بھلائی یہ گنگا تو اُلٹی ہے جا رہی ہے جو مسلم کی دولت تھی کافر نے کھائی میں خود اپنے گھر کا بھی مالک نہیں ہوں ہے غیروں کے ہاتھوں میں میری بڑائی فرائڈ کا ہے ذکر ہر اک زباں پر ہیں بھولے ہوئے اب بخاری ، نسائی شجر کفر کا کاٹنا ہے مُصِيبَت ہے دھٹری کی بڑھیا کا سر منڈائی تیرے باپ دادوں کے مختون متقفل تیرے دل کو بھائی ہے دولت پرائی میں مدح وشن حصہ گبر وتی پر سلم کی قیمت میں ہے جگ ہنسائی شیا میں کا قبضہ ہے مسلم کے دل پر خُدا کی دُہائی، خدا کی دُہائی تو اک بار مجلس میں مجھ کو ملا تو کروں گا نہ تجھ سے کبھی بے وفائی خُدا میرا بدلہ ہے لیتا ہمیشہ جو گزری میرے دل پہ دُنیا پہ آئی پہ سُنا کرتے ہیں دل کی حالت ہمیشہ کبھی آپ نے بھی ہے اپنی سنائی میرا کام جلتی پر پانی چھڑکٹ رقیبوں کا حصہ لگائی بجھائی محمد کی اُمت مسیحا کا شکر پہیلی یہ میری سمجھ میں نہ آئی 321