کلام محمود مع فرہنگ — Page 321
غلامی روس کی ہو یا غلامی مغربیت کی کوئی بھی نام رکھ لے تو وہ ہے زنجیر کت کی تو آزادی کا ٹھپتہ کیوں غلامی پر لگاتا ہے غلاف فوضوریت لے کے قرآں پر چڑھاتا ہے یہ کھیل اضداد کی عرصہ سے تیرے گھرمیں جاری ہے کبھی ہے اورکس کا چرچا کبھی درس بخاری ہے مسلمانی ہے پر اسلام سے ناآشنائی ہے نہیں ایمان گئی ، باپ دادوں کی کمائی ہے کبھی نعروں پہ تو قرباں کبھی گفتار پر قرباں میرے ہو ئے صنم میں اس تیرے کردار پر قرباں اخبار المصلح جلد 6 - 25 ستمبر 1953ء 11 ء کراچی پاکستان 319