کلام محمود مع فرہنگ — Page 320
175 ارے مسلم طبیعت تیری کیسی لا ابالی ہے ترے اعمال دنیا سے جدا فطرت نرالی ہے لا خُدا کو دیکھ کر بھی تو کبھی خاموش رہتا ہے کبھی اس زشت رو کو دیکھ کر کے واہ کہتا ہے کبھی اس چشمہ صافی کے ہمسائے ہیں کہتا ہے کبھی اک قطرہ آب مقطر کو ترستا ہے کبھی خروار غلے کے اٹھا کر پھینک دیتا ہے کبھی چیونٹی کے ہاتھوں سے بھی دار چھین لیتا ہے کبھی آفات ارضی و سماوی سے ہے ٹکراتا کبھی کو بھی جونگ جائے تو تیرا منہ ہے مُرجھاتا کبھی کہتا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے؟ کبھی کہتا ہے راز معلق دنیا کس نے پایا ہے؟ راز کبھی اللہ کی قدرت کا بھی انکار ہے تجھ کو کبھی انسان کی رفعت پر بھی اضرار ہے تجھ کو کمالِ ذات انسانی پر تلو تلو ناز کرتا ہے کبھی شانِ خداوندی پر نشو تو حرف دھرتا ہے پرتو جو راحت ہو تو منہ راحت کہاں سے موڑلیتا ہے مصیبت ہو تو اس کے در پہ کمر تک پھوڑ لیتا ہے جہان فلسفہ کی مکتوں کا چارہ گر ہے تو مگر جو آنکھ کے آگے ہے اس سے بے خبر ہے تو تو مشرق کی بھی کہتا ہے تو مغرب کی بھی کہتا ہے مگر راز درون خانہ پوشیدہ ہی رہتا ہے دو دئے شرود و از ورخص و جام آنگوری و مے خواری پھر اس کے ساتھ تحریریں ہی میں کیسی ہے خود داری؟ اگر چاہے تو بندے کو خدا سے بھی بڑھا دے تو اگر چاہے تو کروبی کو دوزخ میں گرا دے تو 318