کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 285

146 عشق نے کر دیا خراب مجھے ورنہ کہتے تھے لاجواب مجھے کچھ اُمنگیں تھیں کچھ اُمیدیں تھیں یاد آتے ہیں اب وہ خواب مجھے ئیں تو بیٹھا ہوں برلب جو کیا دکھاتا ہے تو سراب مجھے مست ہوں میں تو روز اول سے فائدہ دے گی کیا شراب مُجھے زشت روئیں ہوں آپ مالک حسن چھوڑیے دیجئے نقاب مُجھے داروئے ہر مرض شفائے جہاں حق نے بخشی ہے وہ کتاب مجھے جس میں حصہ نہ ہو مرے دیں کا کیسے بھائے وہ آب و تاب مُجھے میرا با جا ہے تیغ کی جھنکار زہر لگتا ہے یہ رباب مجھے دشمنوں سے تو رکھے میرا پردہ اس طرح کرہ نہ بے حجاب مُجھے بے حد و بے شمار میرے گناہ کس طرح دیں گے وہ حساب مجھے عزم بھی اُن کا ہاتھ بھی اُن کے وہ کریں کام، دیں ثواب مجھے بس کے آنکھوں میں دل میں گھر کر کے کر گئے یوں وہ لاجواب مجھے دل میں بیداریاں ہیں پھر پیدا پھر دکھا چشم نیم خواب مجھے اخبار الفضل مجلد 5 لاہور پاکستان 24 مارچ 1951 ور 283