کلام محمود مع فرہنگ — Page 284
145 بتاؤں تمھیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں کہوں بندہ مگر یں خُدا چاہتا ہوں میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق ! وفا چاہتا ہوں جو پھر سے ہرا کر دے ہر خشک پودا چمن کے لیے وہ کبا چاہتا ہوں مجھے بیر ہرگز نہیں ہے کسی سے میں دُنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں وہی خاک جس سے بنا میرا ئیتلا میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں نکالا مُجھے جس نے میرے چمن سے میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں میرے بال و پر میں وہ ہمت ہے پیدا کہ لے کر قفس کو اُڑا چاہتا ہوں و کبھی جس کو رشیوں نے منہ سے لگایا وہی جام آب میں پیا چاہتا ہوں رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش مگر میں تو کرب وبلا چاہتا ہوں دکھائے جو ہر دم ترا حُسن مجھے کو میری جاں ایں وہ آئینہ چاہتا ہوں 282 رسالہ مصباح - ماہ جنوری 1951