کلام محمود مع فرہنگ — Page 286
147 اسے بے یاروں کے یار نگاہ لُطف غریب مسلماں پر اس بے چارے کا ہندوستاں میں اب کوئی بھی یاد نہیں اسے ہند کے مسلم صبر بھی کہا ہمت بھی کر ہرش کوہ بھی کر فریادیں کو الفاظ ہی ہیں پر پھر بھی وہ بے کار نہیں ہر ظلم بھی سہہ، ہر بات بھی شن، پر دین کا دامن تھامے رہ غدار نہ بن ، بزدل بھی نہ بن ، یہ مومن کا کردار نہیں تو ہندوستان میں روتا ہے میں پاکستان میں رکھتا ہوں ہے میرا دل بھی زار فقط تیرا ہی حال زار نہیں آگرہ جائیں ہم سجدہ میں اور سجادوں کو تر کر دیں اللہ کے در پر سرینگیں جس سے کوئی دربار نہیں 284 اخبار الفضل مبلد 5 لاہور پاکستان 27 مارچ 1951 ء