کلام محمود مع فرہنگ — Page 283
144 منانے والے افسانے ہما کے کبھی دیکھے بھی ہیں بندے خُدا کے نہ واپس آیا دل اُس در پہ جا کے وہیں بیٹھا رہا دھوئی رہا کے بھٹکتے پھر رہے ہو سب جہاں میں کیا کیا تم نے دلبر کو بھلا کے در مے خانہ پا کر بند اے شیخ چلے ہیں آپ بھی گھر کو خُدا کے یہ تم کو ہو گیا کیا اہل ملت نہیں کیا یاد وہ وعدے وفا کے کیا کرتے ہیں ہم سیر دو عالم کسی کو اپنے پہلو میں بٹھا کے خُدا ہی نے لگائی پار کشتی اُٹھائے یونہی احساس ناخُدا کے مجھے دیگر جب بھی دیکھتے ہیں بٹھا لیتے ہیں پاس اپنے بلا کے کسی دن لے کے چھوڑیں گے وہ یہاں بھلا رکھو گے کب تک دل چُھپا کے جو پھر نکلو تو جو چاہو سو کہنا ذرا دیکھو تو اس محفل میں آکے جنھوں نے ہوش کے خانہ میں کھوئے وہ کیا لیں گے بھلا سنجند میں جا کے یزیدی شان کے مالک ادھر آ مناظر دیکھتا ب کربلا کے مرے کانوں میں آوازیں خُدا کی تیرے کانوں میں ایسی بم کے دہما کے میری اُمید وابستہ فلک سے تری نظروں میں اس دنیا کے خاکے ملا تجھ کو نہ کچھ دُنیا میں آکے نہ تو دیکھے گا راحت یاں سے جا کے اخبار الفضل بلد 4 لاہور پاکستان 10 مئی 1950 ء 281