کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 269

131 اترسوں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ہے اور وہ میری ایک نظم خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہے۔آنکھ کھلی تو شعر تو کوئی یاد نہ رہا مگر وزن اور قافیہ ردیف خوب اچھی طرح یاد ہے۔اسی وقت ایک مصرع بنایا کہ وزن قافیہ ردیف یاد رہ جائیں۔میچ اس پر غزل کہی جو چھپنے کے لیے ارسال ہے۔(مرزا محمود احمد) مردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز و ادا کو رہنے دو سیل رکھ لو اپنے سینوں پر اور آہ وٹیکا کو رہنے دو کب تیر نکر کو پھینک کے تم اک خبر آہن ہاتھ میں یہ فولادی پنجوں کے ہیں دن اب دست دنیا کو رہنے دو کیا جنگوں سے مومن کو ہے ڈر وہ موت سے کھیلا کرتا ہے تم اس کے سر کرنے کے لیے میدانِ وغا کو رہنے دو ایام طرب میں ساتھ رہے جب غم آیا تم بھاگ اٹھے ہے دیکھی ہوئی اپنی یہ وفا تم اپنی وفا کو رہنے دو مسلم جو خدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہتا ہے اشباب کرو کوئی پیدا جبریل و خُدا کو رہنے دو 267