کلام محمود مع فرہنگ — Page 268
130 عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی راتر وصال یار بتایا کرے کوئی آنکھوں میں نورین کے سمایا کرے کوئی میرے دل و دماغ پر چھایا کرے کوئی سالوں تک اپنا منہ نہ دکھایا کرے کوئی یوں تو تہ اپنے دل سے بھلا یا کرے کوئی دُنیا کو کیا غرض کہ سُنے داستان عشق یہ قصہ اپنے دل کو سُنایا کرے کوئی میں اس کے ناز روز اٹھاتا ہوں جان پر میرے کبھی تو ناز اُٹھایا کرے کوئی چہرہ میرے جیب کا ہے مہر نیم روز اس آفتاب کو نہ چھیپا یا کرے کوئی ہے دعوت نظر ترمی طرز حجاب میں ڈھونڈا کرے کوئی تجھے پایا کرے کوئی محفل میں قصے عشق کے ہوتے ہیں صبح و شام حسن اپنی بات بھی تو سُنایا کرے کوئی پیدائش جہاں کی غرض بس یہی تو ہے بگڑا کرے کوئی تو بنایا کرے کوئی 266 اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 23 مئی 1948 ء