کلام محمود مع فرہنگ — Page 153
کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا کہ اس دیار میں اسے جان من غریب ہوں میں میرے پکڑنے پر قدرت کہاں تجھے صیاد که باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں ن سلطنت کی تمت نہ خواہش را کرام یہی ہے کافی کہ مولی کا اک نقیب ہوں میں میری طرف چلے آئیں مریض رُوحانی کہ اُن کے دردوں دُکھوں کے لیے طبیب ہوں میں اخبار الفضل جلد 10 - 2 اکتوبر 1922 م 152