کلام محمود مع فرہنگ — Page 152
60 تلک بھی کرشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں وہ آپ مجھ سے ہے کہتا نہ ڈر قریب ہوں میں غَضَب ہے شاہ بلائے ، غلام منہ موڑے ستم ہے چُپ رہے یہ ، وہ کے مجیب ہوں میں وہ بوجھ اُٹھا نہ سکے جس کو آسمان و زمیں اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں کیا عجیب ہوں میں مقابله به عدو کے نہ گالیاں دُوں گا کہ وہ تو ہے وہی جو کچھ کہ ہے ، نجیب ہوں میں ہے گالیوں کے سوا اس کے پاس کیا رکھا غریب کیا کرے تخطی ہے وہ ، مصیب ہوں میں کرے گا فاصلہ کیا جب کہ دل اکٹھے ہوں ہزار دُور رہوں اُس سے پھر قریب ہوں میں ہے عقل نفس سے کہتی کہ ہوش کر ناداں مرا رقیب ہے تو اور تری رقیب ہوں میں 151