کلام محمود مع فرہنگ — Page 154
61 میرے مولی مری بگڑی کے بنانے والے میرے پیارے مجھے فتنوں سے بچانے والے جلوہ دکھلا مجھے او چہرہ چھپانے والے رحم کر مُجھ پر او مُنہ پھیر کے جانے والے ئیں تو بدنام ہوں جس دم سے ہوا ہوں عاشق کہہ میں جو دل میں ہو انزام لگانے والے تشنہ لب ہوں بڑی مدت سے خدا شاہد ہے بھر دے اک جام تو کوثر کے لٹانے والے ڈالتا جا ننگ مہر بھی اس غمگیں پر نظر قبہ سے مٹی میں ملانے والے کبھی تو جلوہ بے پردہ سے ٹھنڈک پہنچا۔سینہ و دل میں میرے آگ لگانے والے تجھ کو تیری ہی قسم کیا یہ وفاداری ہے دوستی کر کے مجھے دل سے بُھلانے والے 153