کلام محمود مع فرہنگ — Page 151
نہ بنتے تم جو بیگانے تو پھر پردہ ہی کیوں ہوتا شبیه یار آکر خود بخود ہی رُو برو ہوتی ڈر کے خانہ اُلفت اگر میں وا کبھی پاتا تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر صراحی ہی سبو ہوتی میری جنت تو یہ تھی میں ترے سایہ تلے رہتا رواں دل میں میرے عرفان بے پایاں کی جو ہوتی تستی پا گیا تو کس طرح ؟ تب لطف تھا سالک کہ آنکھیں چار ہو ئیں اور باہم گفتگو ہوتی ہوتیں ہوئی ہے پارہ پارہ چادر تقوی مسلماں کی۔ترے ہاتھوں سے ہو سکتی تھی مولی گر کر تو ہوتی اخبار الفضل جلد 9 - 5 جنوری 1922ء 150