کلام محمود مع فرہنگ — Page 145
56 مُجھ سے ملنے میں اُنہیں عذر نہیں ہے کوئی دل پہ قابو نہیں اپنا ہی دشواری ہے پیاس میری نہ بھی گر تو مجھے کیا اس سے چشمه فیض و عنایات اگر جاری ہے چاک کر دیجئے ، ہیں بیچ میں جتنے یہ حجاب میری منظور اگر آپ کو دلداری ہے مر کے بھی دیکھ لوں شاید کہ میسر ہو وصال لوگ کہتے ہیں یہ تدبیر بڑی کاری ہے میری یہ آنکھیں کجا رویتِ دلدار کجا حالت خواب میں ہوں ہیں کہ یہ بیداری ہے دل کے رنگوں نے ہی مجوب کیا ہے اس سے شاہد اس بات پر اک پردہ کزنگاری ہے دشمن دین ترے حملے تو سب میں نے ہے اب ذرا ہوش سے رہیو کہ میری باری ہے 144