کلام محمود مع فرہنگ — Page 130
طریق عشق میں اے دل سیادت کیا غلامی کیا محبت خادم و آقا کو اک حلقہ میں لاتی ہے بلائے ناگہاں ! بیٹھے ہیں ہم آغوششِ دلبر میں خبر بھی ہے تجھے کچھ تو کہیں نکھیں دکھاتی ہے تیری رہ میں بچھائے بیٹھے ہیں دل مذتوں سے ہم سواری دیکھئے اب دلر با کب تیری آتی ہے ہمارا امتیاں لے کر تمھیں کیا فائدہ ہوگا ؟ ہماری جان تو بے انتحاں ہی نکلی جاتی ہے گھیرا ہوں حلقہ احباب میں گوئیں، مگر تجھ بن میرے یار ازل تنہائی پھر بھی کاٹے کھاتی ہے ہماری خاک تک بھی اُڑ چکی ہے اس کے رستہ ہیں ہلاکت کو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے غم دل لوگ کہتے ہیں نہایت تلخ ہوتا ہے مگر میں کیا کروں اس کو غذا یہ مجھ کو بھاتی ہے 129