کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 131

میری جاں تیرے جام وفضل کی خواہش میں اسے پیارے مثال ماہی بے آب ہر دم تلملاتی ہے میرے دل میں تو آتا ہے کہ سب احوال کہہ ڈالوں نه شکوہ جان لیں، اس سے طبیعت ہچکچاتی ہے کبھی جو روتے روتے یا دمیں ہیں اس کی سو جاؤں شبیه یار آکر مجھ کو سینے سے لگاتی ہے انانیت پرے ہٹ جا مجھے مت منہ دکھا اپنا میں اپنے حال سے واقف ہوں تو کس کو بناتی ہے کبھی کا ہو چکا ہوتا شکار یاس و نومیدی مگر یہ بات اسے محمود میرا دل بڑھاتی ہے جو ہوں خدام دیں اُن کو خدا سے نصرت آتی ہے نجب آتی ہے تو پھر عالم کواک عالم دکھاتی ہے، اخبار الفضل مجلد 7 - 16 اگست 1920 ء 130