کلام محمود مع فرہنگ — Page 129
مٹائے گا ہمیں کیا ، تو ہے اپنی جان کا دشمن ارے ناداں کبھی عشاق کو بھی موت آتی ہے نہ اپنی ہی خبر رہتی ہے کے یادِ اعزہ ہی جب اس کی یاد آتی ہے تو پھر سب کچھ بھلاتی ہے خُدا کو چھوڑنا اسے مسلمو ! کیا کھیل سمجھے تھے تمھاری تیرہ بختی دیکھئے کیا رنگ لاتی ہے محبت کی جھلک چھپتی کہاں ہے، لاکھ ہوں پڑے نگاہ زیر ہیں مجھ سے بھلا تو کیا چھپاتی ہے معاذ اللہ میرا دل اور ترک عشق کیا ممکن میں ہوں وہ باوفا جس سے دفا کو شرم آتی ہے وفا دہ کیسا سر ہے جو مجھکتا ہے آگے ہر کہ دمہ کے وہ کیسی آنکھ ہے جو ہر جگہ دریا بہاتی ہے تغافل ہو چکا صاحب خبر لیجے نہیں تو پھر کوئی دم میں پیشن لو گے فلاں کی منش جاتی ہے 128