کلام محمود مع فرہنگ — Page 114
چھینے گئے میں نمک سب باقی ہیں اب شام کو پیچھے پڑا ہے ان کے اب دشمن لگائے تالیب ہم ہو رہے ہیں جاں کب بنتا نہیں کوئی سب ہمیں منتظر اس کے کہ کب آئے ہیں امداد رب پیالہ بھرا ہے اب باب ٹھو کرہی اک درکار ہے لب کیا آپ پر الزام ہے، یہ خود ہمارا کام ہے غفلت کا یہ انجام ہے مستی کا یہ انعام ہے قسمت یونسی بنام ہے دل خود سیر دام ہے اب کس جگہ اسلام ہے باقی فقط اک نام ہے ملتی نہیں کئے جام ہے بس اک یہی آزار ہے رسالة تشحمید الاذہان - ماہ مارچ 1913 ء 114