کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 115

43 محمود بحالِ زار کیوں ہو کیا رنج ہے بے قرار کیوں ہو کس بات سے تم کو پہنچی تکلیف کیا صیت ہے دل نگار کیوں ہو ہاں سوکھ گیا ہے کونسا کھیت کچھ بولو تو اشکبار کیوں ہو جب تک نہ ہو کوئی باعث درد بے وجہ پھر اضطرار کیوں ہو میں باعث رنج کیا بتاؤں کیا کہتے ہو بے قرار کیوں ہو دل ہی نہ رہا ہو جس کے بس میں دہ صبر سے شرمسار کیوں ہو سب جس کی اُمیدیں مرچکی ہوں زندوں میں وہ پھر شمار کیوں ہو دولہا نہ رہا ہو جب دلہن کا بیچاری کا پھر سنگار کیوں ہو کاٹے گئے جب تمام پودے گلشن میں میرے بہار کیوں ہو آنکھوں میں رہی نہ جب بصارت دیدارِ سُرخ نگار کیوں ہو جس شخص کائٹ رہا ہو گھر بار خوشیوں سے بھلا دو چار کیوں ہو اسلام گھرا ہے دشمنوں میں مسلم کا نہ دل فگار کیوں ہو ماضی نے کیا ہے جب پریشاں آئندہ کا اختیار کیوں ہو کیا نفع اُٹھایا ترک دیں سے؟ دنیا پر ہی جاں نثار کیوں ہو رسالة تشحيد الاذہان - ماه جون 1913 ء 115