کلام محمود مع فرہنگ — Page 113
42 اسے چشمہ علم وھدی اے صاحب فہم و ذکا اسے نیک دل اسے باصفاے پاک طینت با حیا ! ائے مقتدا کے پیشوا اے میرزا اسے رہنما اے محبتی، اسے مصطفے اسے نائب رَب انوری کچھ یاد تو کیجے ذرا ہم سے کوئی اقرار ہے ! دیتے تھے تم جس کی خبر نہ ھتی تھی جس سے ہاں کر مٹ جائے گلاب شور و شرموت آئے گی شیطان پر پاؤ گے تم فتح و ظفر ہوں گے تمہارے بجرو کہ آرام سے ہوگی کہر، ہوگا خدا نہ نظر واں تھے یہ وعدے خوب تر یاں حالت ازبار ہے ہر دل میں پرسے نبض کہیں نفس شیدا کار ہیں جو ہو فدائے اور دیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں ہر ایک کے ہے سرمیں کیں، ہے کہ کا دیو کیں اک دم کو یاد آتی نہیں، درگاہ رب العالمیں بے چین ہے جان حر میں حالت ہماری زار ہے کہنے کو سب تیار ہیں، چالاک ہیں ہشیار ہیں منہ سے تو سو اقرار ہیں، پر کام سے بیزار ہیں سب ، ظاہرمیں سب بہار ہیں، باطن میں باب شر ہیں مضلع میں پرند کارائیں ہیں ڈاکٹر پر نارمیں حالات پر اسرار ہیں دل مسکن افکار ہے 113