کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 112

ابن ابراهیم آئے تھے جہاں باتشنہ لب کر دیا خشکی کو تو نے اُن کی خاطر آب آب میرے والد کو بھی ابر استیم ہے تو نے کہا جس کو جو چاہے بنائے تیری ہے عالی جناب ابن ابراہیم بھی ہوں اور تشنہ لب بھی ہوں اس لیے جاتا ہوں میں مکہ کو بامید آب اک رخ روشن سدا رہتا ہے آنکھوں کے تلے ہیں نظر آتے مجھے تاریک ماه و آفتاب اس قدر بھی بے رخی اچھی نہیں عشاق سے ہاں کبھی تو اپنا چہرہ کیجئے گا بے نقاب چشمه انوار میرے دل میں جاری کیجئے پھر دکھا دیجے مُجھے عُنوانِ رُوئے آفتاب رساله تشحید الاذبان - ماه فروری 1913 ء 112