کلام محمود مع فرہنگ — Page 111
وُہ شجر ہیں سنگباروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل ساری دنیا سے نبی الا اُن کا ہوتا ہے جواب لوگ اُن کے لاکھ دشمن ہوں وہ سب کے دوست ہیں خاک کے بدلے میں ہیں وہ پھینکتے مشک و گلاب یا الھی آپ ہی اب میری نصرت کیجئے کام ہیں لاکھوں مگر ہے زندگی مثل حباب کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جائے جو ہوں میں بے نقاب ئیں ہوں خالی ہاتھ مجھ کو یو نہی جانے دیجئے شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب تشنگی بڑھتی گئی جتنا کیا دُنیا سے پیار پانی سمجھے تھے جسے وہ تھا حقیقت میں سراب میری خواہش ہے کہ دیکھوں اس مقام پاک کو جس جگہ نازل ہوئی موٹی تری امر الكتاب 111