کلام محمود مع فرہنگ — Page 110
41 دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب شاید آ جائے نظر رُوئے دل آرا بے نقاب غافلو کیوں ہو رہے ہو عاشق چنگ و رباب آسماں پر کھل رہے ہیں آج سب عرفاں کے باب مست ہو کیوں اس قدر اغیار کے اقوال پر اُس شد خوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹھے ہو کتاب کیا ہوا کیوں عقل پر ان سب کے پتھر پڑ گئے چھوڑ کر دیں، عاشق دُنیا ہوئے ہیں شیخ و شاب اپنے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یہ اک حصن حصیں بھاگے جاتے ہیں یہ احمق کیوں پھلا سوئے حجاب أمر بالمعروف کا بیڑا اُٹھاتے ہیں جو لوگ اُن کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ عذاب پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام اور ہی ہوتی ہے ان کی عزوشان و آب و تاب 110