کلام محمود مع فرہنگ — Page 78
32 منے عشق ندا میں سخت ہی محصور رہتا ہوں یا لیا نشے میںمیں کہ ہردم چور رہتا ہوں یانش ہے وہ ہے جنہیں نہاں میں سے پڑھ ہے اسے لازم تبھی تو چشم بیدیاں سے میں مستور رہتا ہوں قیامت ہے کہ مصلیا میں بھی رنج وقت ہے میں اس کے پاس رہ کر بھی ہمیشہ دور رہتا ہوں لیا کیوں رشتہ پدری ، وفاداری نہ کیوں چھوڑی نگاہ دوستاں میں میں تبھی مشہور رہتا ہوں مجھے اس کی نہیں پروا کوئی ناراض ہو بیشک یکیں غداری کی سرحد سے بہت ہی دور رہتا ہوں مجھے فکر معاش و پوشش و خور کالم کیوں ہو میں عشق حضرت یزداں میں جب مخمور رہتا ہوں تیپ سے دین کی مجھ کو سے دنیا کی لالچی ہے مخالف پر ہمیشہ میں تبھی منصور رہتا ہوں اُسے ہے قوم کا غم اور میں دنیا سے بچتا ہوں میں اب اس دل کے ہاتھوں سے بہت مجبور بہتا ہوں 78 اخبار بدر جلد 8 - 8 جولائی 1909ء