کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 79

33 جگہ دیتے ہیں جب ہم ان کو اپنے سینہ و دل میں ہیں وہ بیٹھنے دیتے نہیں کیوں اپنی محفل میں بڑے چھوٹے سبھی کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں تو پھر تشریف کیوں لاتے نہیں وہ کعبہ دل میں کرے گا نعرہ اللہ اکبر کوئے قاتل میں ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے دم اس مرغ بشمل میں اُسی کے جلوہ ہائے مختلف پر مرتے ہیں عاشق وہی گل میں ، وہی مل میں، وہی ہے شمع محفل میں وہی ہے طرز دلداری وہی رنگ ستمنم گاری جن کیوں کروں اس کا کہ ہے یہ کون کھیل میں بُلاتے ہیں مجھے وہ پر جو میں اُٹھوں تو کہتے ہیں کدھر جاتا ہے او غافل میں بیٹھا ہوں ترے دل میں ہزاروں دامنوں پر خون کے دھتے چمکتے ہیں مرے آنے پہ کیا ہولی ہوئی ہے کوئے قاتل میں 79