کافر کون؟

by Other Authors

Page 371 of 524

کافر کون؟ — Page 371

371 مولوی سبحانی صاحب شاعر بھی معلوم ہوتے ہیں۔کہ تشبیہ پڑھ کر جواب ہم نقل کر رہے ہیں۔شاعر تو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیں گے۔فرماتے ہیں کہ قادیانیوں کی عبادت گاہوں سے اگر کلمہ مٹایا جائے تو یہ لوگ شور بر پا کر دیتے ہیں کہ دیکھو کلمہ کی توہین کی گئی ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب گل افشانی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیت الخلاء پر کلمہ لکھ دے تو کیا اس کا مٹانا تو ہین ہے؟ یہ تو عین کار ثواب ہے۔بلا شبہ بیت الخلاء پر کلمہ لکھنا خباثت کی انتہا ہے۔اور ایسی ناپاک جگہ سے کلمہ مٹادینا ہر مسلمان پر فرض ہے مگر کسی عبادت گاہ کو بیت الخلاء سے تشبیہ دینا ایک مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔مومن تو بہت بڑی بات ہے ایک ادنی ایمان کا حامل مسلمان بھی ایسی نا پاک تشبیہ ایک عبادت گاہ کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔ہم مولوی صاحب سے دریافت کرتے ہیں کہ فرقہ احمدیہ کی عبادت گاہ میں کیا ہوتا ہے؟ جہاں تک ہمیں معلوم ہے سنت نبوی کے مطابق اذان دی جاتی ہے ( بلکہ دی جاتی تھی ) رسول اقدس صلی شما پیام کے طریقہ مبارک کے مطابق نماز ادا کی جاتی ہے۔قرآن پڑھا جاتا ہے۔رکوع و سجود کئے جاتے ہیں۔مسنونہ دعائیں پڑھی جاتی ہیں ایسی عبادت گاہ جس میں خدائے واحد ذوالجلال کی عبادت کی جائے اور رسول اقدس کے مسنونہ طریقہ مبارک کے مطابق کی جائے اسے بیت الخلاء سے وہی شخص تشبیہ دے سکتا ہے جس کا دل خوف خدا اور عشق رسول سے بالکل خالی ہو چکا ہو جو ایمان سے تہی دامن ہو چکا ہو۔افسوس کہ آپ جیسے مولوی اسلامی اخلاق تو بڑی بات ہے ادنی اخلاق سے بھی محروم ہو چکے ہیں کیونکہ ہم نے کسی ہندو، عیسائی، بدھ اور پاری کو بھی کسی عبادت گاہ کے بارہ میں ایسے ناپاک الفاظ استعمال کرتے دیکھا نہ سنا۔اللہ آپ پر رحم فرمائے۔اس طرز فکر کے لوگ ہلاکت کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔کلمہ مٹانے پر مبارک باد مولوی سبحانی صاحب نے حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب دونوں کو ہدیہ تبریک پیش کیا ہے کہ راولپنڈی میں واقع فرقہ احمدیہ کی عبادت گاہ کی پیشانی پر سے کلمہ طیبہ توڑ توڑ کر مٹا دیا گیا۔مولوی سبحانی صاحب کے خط کے ساتھ ہی ہمیں بھی یہ اطلاع ملی تھی کہ پولیس کی ایک جمعیت کی موجودگی اور اعلیٰ حکام کی نگرانی میں مری روڈ پر واقع فرقہ احمدیہ کی عبادت گاہ کی پیشانی پر جو کلمہ طیبہ سنگ مرمر پر کندہ تھا اسے ہتھوڑوں اور چھینیوں سے شہید کردیا گیا۔یہ ظلم تو ہو گیا مگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ اللہ کے اسم مقدس پر چھینی رکھ کر ہتھوڑے کی ضرب لگائی گئی ہوگی اور اللہ کا پاک نام دوٹکڑے ہو کر زمین پر گرا ہو گا۔پھر جب محمد (سالم) کے مقدس نام پر چھینی رکھ کر ہتھوڑے کی ضرب لگائی گئی ہوگی اور محمد کی میم کٹ کر زمین پر گری ہوگی تو کیا اس وقت عرشِ الہی لرز نہیں گیا ہو گا۔ہمارے خیال میں تو کلمہ طیبہ کے ساتھ یہ سلوک کر کے خدا کے غضب کو دعوت دی گئی ہے۔مت بھولو کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے رسول کے نام کے لئے بڑی