کافر کون؟

by Other Authors

Page 333 of 524

کافر کون؟ — Page 333

333 اذیت اور کرب سے میری چھینیں نکل گئیں جب میں نے خود علماء کو ہی دیگر علماء کو ننگے کرتے دیکھا۔خوفناک مالی کرپشن، بلیک میلنگ، کالا دھن اور بین الاقوامی دہشت گردوں کے ہاتھوں چلنے والے مہرے کے القابات سے نوازتے دیکھا۔چنانچہ علماء کا یہی کردار میری انگلی مشکل بن گیا۔مشکل نمبر 41 علماء کی پیجیر وگاڑیاں اور نورانی صاحب کا مطالبہ روزنامہ نوائے وقت 14 اکتوبر 97ء کی اشاعت میں لکھتا ہے : جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا احمد شاہ نورانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے علماء کے خلاف تحقیقات کرائے کہ یہ گاڑیاں انہوں نے کہاں سے حاصل کیں۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو برادر اسلامی ممالک پاکستان کے دینی مدراس اور مساجد کے لیے امداد دینا چاہیں انہیں یہ امداد وزارت مذہبی امور کے ذریعہ دینی چاہئے۔مولانا احمد شاہ نورانی کا یہ مطالبہ بڑا مفعول ہے بعض دینی رہنما ہجیر و اور لینڈ کروزر سے نیچے پاؤں نہیں رکھتے اور جب وہ سڑک پر نکلتے ہیں تو ان کی سکیورٹی وزیر اعظم کی سکیورٹی سے بھی زیادہ ہوتی ہے ایسے علماء دین کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔(روزنامہ نوائے وقت 14اکتوبر 97 سررا ہے) : " ا سب سے بڑا بکاؤ مال۔( قاضی حسین احمد سمیع الحق فضل الرحمن نورانی نیازی) کیا واقعی مولوی جیت گئے؟ روز نامہ خبریں زیر عنوان ” کیا واقعی مولوی جیت گئے؟“ لکھتا ہے : مورخہ 14 جون 1995 ء کے خبریں میں ”مولانا محمد ضیاء القاسمی کا مضمون بعنوان ”مولوی جیت گئے پڑھا۔یہ مضمون پڑھ کر ہم حیرت کے دریا میں غوطے لگانے لگ گئے کہ کیا واقعی مولوی پاکستان میں جیت گئے ہیں؟ کیا ”مولانا فضل الرحمن کو روز کون بیرونی ممالک کے دوروں پر بھیج رہا ہے۔کون فضل الرحمن کو شیرین جیسے مہنگے ترین ہوٹلوں کے مہنگے ترین کمروں سوئیٹ میں ٹھہرا رہا ہے۔جب ”مولا نا بغیر بل ادا کئے ان ہوٹلوں سے چلے جاتے ہیں تو ان کا ہزاروں ڈالرز کا ہل کون ادا کرتا ہے؟ مولانا ضیا القاسمی نے اپنے مضمون میں پجہتی کونسل کا بھی ذکر کیا ہے۔لوگ حیران ہیں اور ہم برادر خلیل ملک کی اس بات سے متفق ہیں کہ کل تک یہ حضرات مساجد پر بم گرا رہے تھے اور نمازیوں پر فائرنگ کر رہے تھے نیز امام