کافر کون؟

by Other Authors

Page 332 of 524

کافر کون؟ — Page 332

332 میں کیا ہے اس سے باخبر حضرات واقف ہیں۔اور خود ہندوستان میں جو تقریباً نصف صدی تک اپنے آپ کو مسلمان اور اسلام کا وکیل ثابت کرنے کے لیے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کا انہوں نے جس طرح مقابلہ کیا۔تحریری اور تقریری مناظرے مباحثے کئے وہ بہت پرانی بات نہیں پھر ان کا کلمہ، ان کی اذان اور نماز وہی ہے جو عام امت مسلمہ کی ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ان کے فقہی مسائل قریب قریب وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں“۔(ماہنامہ البینات کراچی جنوری فروری 1988 ء صفحہ 96) بقول مولانا ارشد القادری ایڈیٹر جام نور جمشید پور : جماعت اسلامی جن لوگوں کو اسلام سے قریب تر کرتی ہے وہ ہزار بگڑنے کے باوجود کسی نہ کسی نہج سے اسلام کے ساتھ بہر حال کوئی تعلق رکھتے تھے لیکن قادیانی جماعت کا لٹریچر مغرب کے عیسائیوں کو جو اندر سے لے کر باہر تک اسلام کے غالی دشمن اور حریف ہیں۔انہیں اسلام سے قریب ہی نہیں کرتا اپنے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھواتا ہے۔(جماعت اسلامی صفحہ 104 شائع کر دونور یہ رضویہ پبلشنگ کمپنی کچا رشید روڈ بلال گنج لاہور ) لیکن 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کے علماء دین اکھٹے ہوئے اور انہوں نے قومی اسمبلی کے سیاستدانوں سے انہیں غیر مسلم قرار دلوا کر دائرہ اسلام سے خارج کر وا دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس عظیم کردار کے حامل لاکھوں کروڑوں احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دلوا جانے والے علماء دین یقیناً خودا اپنی ذات میں ان احمد یوں سے بلند بلکہ بلند تر اور ہ تقویٰ اور خوف خدا کے لحاظ سے پہاڑوں جیسی شخصیات ہونگی۔حے اس چند روزہ زندگی کو فرمان رسول کے مطابق السجن “ سمجھتے ہو نگے۔حمد دنیاوی مال و متاع پر ان کی نظر ہر گز نہ ہوگی۔م چند ٹکوں کی خاطر اور سیاسی مفاد کی خاطر دین کو ڈھال نہ بنانے والے ہونگے۔حمد دین کو بیچ کر ذریعہ روزگار نہ بنانے والے ہونگے۔بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو پھیلانے والے اور دینا میں ہر مالی بددیانتی اور ہر مالی بلیک میلنگ کے خلاف سد راہ ہونگے۔