کافر کون؟

by Other Authors

Page 288 of 524

کافر کون؟ — Page 288

جھوٹ نمبر 10 288 مجاہد ختم نبوت، وکیل ختم نبوت مولانا یوسف لدھیانوی کا شہنشاہ جھوٹ محدث العصر کے حوالے سے مولانا یوسف لدھیانوی کا ذکر ہوا تو سوچا کیوں نہ آپ کی خدمات جلیلہ کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔آپکے اسلحہ کا برانڈ بھی چیک کر لیا جائے۔دکھ نے آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا کر دیا جب میں نے آپ کو بھی جھوٹ کے گھوڑے پر سوار جھوٹ کی شمشیر سے ہی زرہ بند پایا۔آپ کی کتاب ” شناخت“ سے صرف ایک جھلک پیش کرتا ہوں آپ زیر عنوان وفات اور دفن ایک حدیث مبارکہ کا ترجمہ یوں پیش فرماتے ہیں۔آنحضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اپنی مدت قیام پوری کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوگا مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں روضہ اطہر میں حضرت ابوبکر وحضرت عمر کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔اور سب دنیا جانتی ہے کہ مرزا صاحب کو روضہ اطہر کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی“۔تبصره (صفحہ 10-9) ایک عالم دین اچھی طرح جانتا ہے کہ سرکار دو عالم نے اپنے اوپر جھوٹ بولنے والے کے لیے کیا ارشاد فرمایا ہے اس لیے وہ فرمان تو پیش نہیں کرتا البتہ وہ حدیث جس میں مولانا نے جسارت کر کے یہ جھوٹ گھڑا ہے وہ پیش کر دیتا ہوں۔حدیث مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں۔ثم يموت فيد فن معی فی قبری فاقوم انا و عیسی ابن مريم في قبر واحد بين ابي بكر وعمر (مشكوة المصابيح كتاب الفتن الفصل الثالث باب نزول عیسی ) مولانا نے یہ صرف یہ دو چالاکیاں کی ہیں کہ اصل حدیث کے الفاظ پیش ہی نہیں کیے اور ترجمہ کا سہارا لے کر اول قبر کو پورے مقبرہ میں بدل دیا اور دوئم ابو بکر و عمر کے درمیان کو ابوبکر و عمر کے پہلو میں بدل دیا۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ید فن معی فی قبری“ کے ظاہری معنی کوئی غیرت مند مسلمان قبول کر کے مولانا کو سرکار دو عالم کی قبر مبارکہ اکھاڑنے کی اجازت نہ دے گا اس لیے آپ نے ترجمہ قبر مبارک کا پورے روضہ مبارک میں کر لیا۔اور دوسرا یہ کہ چونکہ آگے ابو بکر اور عمر کی قبر کے درمیان سے ہم دونوں اٹھیں گے۔اس لیے درمیان کو پہلو میں بدل دیا کیونکہ خود مولانا جانتے ہیں کہ آنحضور صلی السلام کی قبر مبارک حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے درمیان میں نہیں۔بلکہ پہلے آپ پھر حضرت ابوبکر اور پھر حضرت عمر کی قبر مبارکہ ہے۔جسمانی طور پر مدینہ دفن نہ ہونے پر اعتراض دور کرنے کے لیے یہ کیسا عجیب شہنشاہ جھوٹ ہے جس میں