کافر کون؟

by Other Authors

Page 287 of 524

کافر کون؟ — Page 287

287 ہفت روزہ ختم نبوت 18 تا 24 دسمبر 1992ء میں مولانا یوسف لدھیانوی صاحب یوسف بنوری صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کرواتے ہیں کہ : قادیانیت کی عمارت کو مسمار کر دینے اور پرویزیت کی کمر توڑ دینے والی علم کے زیور سے آراستہ اور عمل کے اسلحے سے مسلح شخصیت۔میں حیرت میں گم ہو جاتا ہوں جب جناب محدث العصر کو بھی جھوٹ کا سہارا لیتے دیکھتا ہوں بلکہ آپ تو جھوٹ بھی فیشن ایبل قسم کے بولتے ہیں۔کتنی اذیت ناک حقیقت ہے کہ آپ قادیانیت کا محل جھوٹ کے تیشے سے مسمار کرنا چاہتے ہیں۔70ء کی دہائی میں آپ نے ربوہ سے تل ابیب تک“ نامی کتاب لکھ کر مورخین ، صحافیوں ، سیاستدانوں، انٹیلی جنس کے سر براہوں اور جغرافیہ دانوں کے سر پر انکشاف کا ایسا پتھر دے مارا کہ وہ سب آج تک فاطر العقل اور مخبوط الحواس بنے پھرتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ اس تحقیق کے معلوم ہونے سے پہلے وہ گدھے تھے یا اب۔ہے نا حیرانگی کی بات؟ آئیے آپ کی تقویٰ پر مبنی جغرافیائی تحقیق ملاحظہ کیجیے۔1۔قادیانی تحریک کا یہ دعوی کہ وہ نسلاً اسرائیلی ہیں در حقیقت اس امر کا بر ملا اظہار ہے کہ قادیانیت صیہونیت کے ہی ایک شاخ ہے۔2۔اسرائیکی سٹیٹ۔یہود، برطانیہ اور امریکہ کی سازش سے قائم ہوئی اور ربوہ سٹیٹ انگریز گورنر کی سازش سے“۔3۔1934 ء میں خلیفہ قادیان نے دنیا میں تبلیغ کا جال پھیلانے کے لیے جو دراصل انگریز کے محکمہ جاسوسی کی ذیلی شاخ تھی تحریک جدید کا اعلان کیا اور اس کے لیے مالیات کا مطالبہ کیا تو سب سے زیادہ رقم فلسطین کی قادیانی جماعت نے مہیا کی“۔4۔مجھے باوثوق ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں حبشہ کے عد لیس ابابا میں ان کا ایک مضبوط مشن کام کر رہا ہے جس کا سالانہ میزانیہ 35 ملین ڈالر ہے اور یہ مشن وہاں اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے“۔تبصره مولا نا چونکہ محدث العصر بھی ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ نے قادیانیت کی عمارت مسمار ہی نہیں کھیتی چھیتی کر دی ہے اس لیے ہم انہیں صرف اور صرف حضرت مہاتما بدھ کا یہ قول ہی تحفہ میں پیش کرتے ہیں۔اگر کسی شخص کے دل سے جہالت دور نہیں ہوئی تو نذرانے ، دعا اور قربانیاں سب بے کار ہیں“۔